پاکستان میں مہنگے ایندھن کے باعث صنعتی شعبہ عالمی منڈی میں اپنی مسابقت کھو رہا ہے۔ آبی بجلی کے متعدد منصوبے تاحال مکمل نہیں ہو سکے
تھر کے کوئلے کی صلاحیت سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا، نئے گیس ذخائر پیداوار میں شامل نہیں کیے گئے اور شیل گیس کے امکانات کو بھی سنجیدگی سے نہیں دیکھا گیا۔
مشرقی ایشیا کی معیشتوں کو دیکھیے، جہاں زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کا بنیادی ذریعہ برآمدات میں مسابقت، صنعتی پیداوار اور غیر ملکی سرمایہ کاری بنے۔ وہاں ترسیلاتِ زر صرف ایک اضافی ذریعہ ہیں، اصل سہارا نہیں
دنیا کا کوئی بھی ملک مستقل بنیادوں پر اپنے ادائیگیوں کے توازن کی مالی ضروریات بیرونِ ملک مقیم اپنی افرادی قوت کے سپرد نہیں کر سکتا
اصل تشویش کی بات یہ ہے کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ ایسے موسمی مظاہر کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آج ہمیں ہیٹ ویوز کا سامنا ہے، مگر بعید نہیں کہ مستقبل میں سمندری طوفان جیسے دیگر قدرتی آفات بھی زیادہ شدت کے ساتھ ہمارے دروازے پر دستک دیں، جن سے تنہا نمٹنا ہمارے لیے انتہائی مشکل ہوگا